سرینگر،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کشمیر میں بڈگام اور اننت ناگ ضلع میں اپنے حقوق کیلئے مظاہرہ کررہے لوگوں پر سیکورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ میں آج پانچ لوگوں کی موت ہو گئی اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔وادی میں کرفیو،پابندیوں اور سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے آج مسلسل39ویں دن معمولات زندگی متاثر رہی۔اس کے ساتھ ہی وادی میں جاری مظالم میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر63ہو گئی ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ بڈگام ضلع کے ماگم کے اری پٹھان علاقے میں مظاہرین پر سی آر پی ایف کے جوانوں نے تابڑتوڑفائرنگ کی جس میں 4 افراد ہلاک ہو گئے اور پانچ زخمی ہو گئے۔مرنے والوں کی شناخت جاویداحمد،منظور احمد، محمد اشرف اور کوثر شیخ کے طور پر کی گئی ہے۔آج صبح ماگم علاقے کے اری پٹھان میں سی آر پی ایف کی ایک گاڑی پر نوجوانوں کے نوجوانوں کی طرف سے پتھراؤ کا الزام لگاکر سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کردی۔اننت ناگ ضلع کی جانگلات منڈی میں ہوئے ایک اور واقعہ میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ایک افسر نے بتایا کہ مظاہرہ کر رہے نوجوانوں کے گروپ کومنتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کو گولی چلانی پڑی جس کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا۔انہوں نے بتایاکہ عامر یوسف نامی ایک زخمی نوجوان کی بعد میں موت ہو گئی۔اس درمیان پورے سری نگر ضلع اور اننت ناگ شہر میں کرفیو جاری ہے جبکہ وادی کے باقی حصے میں پابندیاں جاری ہیں۔افسر نے بتایا کہ وادی کے مرکزی بازار مقامات میں شہریوں کے مارے جانے کی مخالفت میں عوام کے دھرنے پر بیٹھنے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لئے کرفیو اور پابندیاں لگائی گئی ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ قانون اور نظام کو برقرار رکھنے کے لئے احتیاطی اقدام کے طور پر پورے سری نگر ضلع اور جنوبی کشمیر کے اننت ناگ شہر میں کرفیو جاری ہے۔علیحدگی پسندوں کے ہڑتال کے اعلان کی وجہ سے اسکول، کالج اور نجی دفتر بند رہے اور عوامی گاڑیاں سڑکوں پر نظر نہیں آئی۔سرکاری دفاتر میں حاضری کم رہی۔پوری وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات ٹھپ ہیں۔ہفتہ کی شام کو برڈبریڈ سروس کو بند کر دیا گیا تھا جبکہ اسی دن رات کو دیر موبائل ٹیلی فون کی خدمات بھی معطل کر دی گئی تھیں۔آٹھ جولائی کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ سیکورٹی فورس کی طرف سے فائرنگ میں کشمیری نوجوان برہان وانی کے مارے جانے کی مخالفت میں ہو رہے مظاہروں کے سبب فورس برسرپیکار ہے۔نو جولائی سے شروع ہوئے مظاہرے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 63افراد ہلاک اور کئی ہزار زخمی ہوئے ہیں۔